لومڑ اور پتھر - Urdustorry

Breaking

Karwan_E_Haq

Home Top Ad

Responsive Ads Here

Post Top Ad

Responsive Ads Here

Sunday, 27 October 2019

لومڑ اور پتھر

ایک لومڑ کی دُم پہ پتھر آ گرا، دُم کٹ گئی۔
ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا! یہ تم نے اپنی دُم کیوں کاٹی؟
دُم کٹا لومڑ بولا اس سے بڑی خوشی و فرحت محسوس ہوتی ھے۔ایسے لگتا ھے کہ جیسے ہواؤں میں اُڑ رھا ھوں۔واہ!! کیا تفریح ھے
بس گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اس نے دم کٹوانے پر راضی کر ہی لیا۔
اس نے جب یہ دم کٹائ کی مہم سرکرلی تو بجائے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ھونے لگا!!
پوچھا میاں!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟ پہلا کہنے لگا جو ہُوا سو ہُوا اب یہ درد کی داستان دوسرے لومڑوں کو سنائی تو انہوں نے دُمیں نہیں کٹوانی اور ہم دو دم کٹوں کا مذاق بنتا رھےگا
بات سمجھ میں آئی تو یہ دونوں دم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رھے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دم کٹی ھوگئ۔ اب حالت یہ ھو گئی کہ جہاں کوئ دم والا لومڑ دکھلائی دیتا اسکا مذاق اُڑایا جاتا!
[جب بھی فساد عام ھوکر پھیل جاتا ھے عوام نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں
حضرت کعب رضی اللّٰه عنہ سے روایت ھے کہ فرمایا لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائی جائے گی جیسے کہ اَجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائی جاتی ھے اور شرمندہ کِیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آدمی کو طنزاً کہا جاےگا کہ واہ بھئی! تم تو بڑے ایمان دار فقیہہ بندے ھو!!
بگڑا ہوا معاشرہ جب نیکوکاروں میں کوئ قابلِ اعتراض بات نہیں تلاش کر پاتا تو انکی بہترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ھے
کیا لوط علیہ السلام کی قوم نے نہیں کہا تھا نکال دو لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے!! یہ تو بہت نیک بنے پھرتے ہیں۔
یہ ہمارے معاشرہ کی حقیقت ھے کہ جس میں ھم جیتے ہیں

Image result for fox"

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Responsive Ads Here